اب تو آنکھوں سے پلایا جاۓ
ان کی زلفوں پے لٹایا جاۓ
لمس میں ان کے بجلیاں صدہا
پس کہ خرمن کو جلایا جاۓ
میں عدم میں ،وہ منتظر میرا
کاش اک بار جگایا جاۓ
غاصبوں نے قلم بھی چھین لیا
اب کے نشتر ہی اٹھایا جاۓ
بھر گیا دل تری کرامت سے
اب نہ اعجاز دکھایا جاۓ
پس کہ کہنے کو کیا رہا باقی
نام ارسل کا مٹایا جاۓ
Jul 21, 2020
Jul 21, 2020 at 11:46 AM UTC
اب تو آنکھوں سے پلایا جاۓ
ان کی زلفوں پے لٹایا جاۓ
لمس میں ان کے بجلیاں صدہا
پس کہ خرمن کو جلایا جاۓ
میں عدم میں ،وہ منتظر میرا
کاش اک بار جگایا جاۓ
غاصبوں نے قلم بھی چھین لیا
اب کے نشتر ہی اٹھایا جاۓ
بھر گیا دل تری کرامت سے
اب نہ اعجاز دکھایا جاۓ
پس کہ کہنے کو کیا رہا باقی
نام ارسل کا مٹایا جاۓ
