Hello Poetry
Submit your work and get some sparkles! Create free account
اب تو آنکھوں سے پلایا جاۓ ان کی زلفوں پے لٹایا جاۓ لمس میں ان کے بجلیاں صدہا پس کہ خرمن کو جلایا جاۓ میں عدم میں ،وہ منتظر میرا کاش اک بار جگایا جاۓ غاصبوں نے قلم بھی چھین لیا اب کے نشتر ہی اٹھایا جاۓ بھر گیا دل تری کرامت سے اب نہ اعجاز دکھایا جاۓ پس کہ کہنے کو کیا رہا باقی نام ارسل کا مٹایا جاۓ
0
Jul 21, 2020
Jul 21, 2020 at 11:46 AM UTC
غزل
اب تو آنکھوں سے پلایا جاۓ ان کی زلفوں پے لٹایا جاۓ لمس میں ان کے بجلیاں صدہا پس کہ خرمن کو جلایا جاۓ میں عدم میں ،وہ منتظر میرا کاش اک بار جگایا جاۓ غاصبوں نے قلم بھی چھین لیا اب کے نشتر ہی اٹھایا جاۓ بھر گیا دل تری کرامت سے اب نہ اعجاز دکھایا جاۓ پس کہ کہنے کو کیا رہا باقی نام ارسل کا مٹایا جاۓ
Arsal
Written by
29/M/Regina , Saskatchewan
Jul 21, 2020
Jul 21, 2020 at 11:46 AM UTC
Request permission to use this poem