بھرتی رہی
پیالہ میں
یہاں وہاں کے پانی سے
کچھ چھلکا
کچھ پیا
کچھ بس ایسے ہی پڑا رہا۔
پر جو زمزم میرے رب کا تھا
وہاں کا رستہ
دوسروں کے رستے
طے کرتے کرتے
مر گئی
تھک گئی
ملا نہ۔
وہ تیرا ہے جیسا، میرا بھی ویسا
اتنا اُس کا، اتنا ہی سب کا۔
رہتا تجھ میں، بستا مجھ میں
ہاں بستی بناتا نہیں
جہاں ذات میں “خودی” ہو،
اور ہستی بگاڑتا نہیں
جہاں صرف “حق” اور “ہُو” ہو۔
اور پیالہ پڑا رہا
ایسا کا ایسا
اُس دیس کے جیسا
جہاں چاند کو ستارا مل گیا
Feb 13
Feb 13, 2026 at 5:56 PM UTC
بھرتی رہی
پیالہ میں
یہاں وہاں کے پانی سے
کچھ چھلکا
کچھ پیا
کچھ بس ایسے ہی پڑا رہا۔
پر جو زمزم میرے رب کا تھا
وہاں کا رستہ
دوسروں کے رستے
طے کرتے کرتے
مر گئی
تھک گئی
ملا نہ۔
وہ تیرا ہے جیسا، میرا بھی ویسا
اتنا اُس کا، اتنا ہی سب کا۔
رہتا تجھ میں، بستا مجھ میں
ہاں بستی بناتا نہیں
جہاں ذات میں “خودی” ہو،
اور ہستی بگاڑتا نہیں
جہاں صرف “حق” اور “ہُو” ہو۔
اور پیالہ پڑا رہا
ایسا کا ایسا
اُس دیس کے جیسا
جہاں چاند کو ستارا مل گیا
This is in Urdu language
