Hello Poetry
Submit your work and get some sparkles! Create free account
جب ہم سوئے چین سے، انہوں نے اپنی نیندیں قربان کیں ہر غم کو خود سہا، ہم پر خوشیوں کی بارش کی۔ اپنے آرام کو چھوڑا، ہماری راحت کو اپنایا ہر خواب ہمارا پورا ہو، یہی سپنا دل میں بسایا۔ سینے سے لگا کر دودھ پلایا، ماں نے محبت کا دریا بہایا، راتوں کو جاگ کر، باپ نے اپنا سکون بھی گنوایا۔ ہمیں پروان چڑھایا، خود کو نظر انداز کیا، ہمارے ہونٹوں کی مسکاں میں، اپنے دل کا قرار جیا۔ ماں کے قدموں کے نیچے ہے جنت، اور باپ ہے جنت کا دروازہ، ہے یہی سچ۔ جو ماں باپ کی نافرمانی کرے، وہ جنت کو کھو دے جو ان کی عزت کرے، وہی سکون کی دولت سمیٹے۔ ہر کسی کو والدین کا سایہ نہیں ملتا ہر بچے کو والدین کی دعائیں نہیں ملتیں۔ جب تک ہیں پاس، ان کا احترام کرتے جاؤ، دعاؤں کے چراغ جلاتے جاؤ، برکتیں سمیٹتے جاؤ۔ ✍ روحانیت
0
Feb 9, 2025
Feb 9, 2025 at 10:06 AM UTC
ماں باپ
جب ہم سوئے چین سے، انہوں نے اپنی نیندیں قربان کیں ہر غم کو خود سہا، ہم پر خوشیوں کی بارش کی۔ اپنے آرام کو چھوڑا، ہماری راحت کو اپنایا ہر خواب ہمارا پورا ہو، یہی سپنا دل میں بسایا۔ سینے سے لگا کر دودھ پلایا، ماں نے محبت کا دریا بہایا، راتوں کو جاگ کر، باپ نے اپنا سکون بھی گنوایا۔ ہمیں پروان چڑھایا، خود کو نظر انداز کیا، ہمارے ہونٹوں کی مسکاں میں، اپنے دل کا قرار جیا۔ ماں کے قدموں کے نیچے ہے جنت، اور باپ ہے جنت کا دروازہ، ہے یہی سچ۔ جو ماں باپ کی نافرمانی کرے، وہ جنت کو کھو دے جو ان کی عزت کرے، وہی سکون کی دولت سمیٹے۔ ہر کسی کو والدین کا سایہ نہیں ملتا ہر بچے کو والدین کی دعائیں نہیں ملتیں۔ جب تک ہیں پاس، ان کا احترام کرتے جاؤ، دعاؤں کے چراغ جلاتے جاؤ، برکتیں سمیٹتے جاؤ۔ ✍ روحانیت
Written by
23/F/Kishtwar
Feb 9, 2025
Feb 9, 2025 at 10:06 AM UTC
Request permission to use this poem