Submit your work, meet writers and drop the ads. Become a member
 
آواز دے کر بلاؤں میں کس کو
جسے دیکھتا ھوں عجب دیکھتا ھوں
ان کی وفا میں نہ کوئی ملا ھے
جو میں دیکھتا ھوں جفا دیکھتا ھوں
نہ میرے لہو میں نہ ان کے لہو میں
وفا ہی نہ پائی دغا دیکھتا ھوں
مظلوم تو نے ھے کیا خواب دیکھا
خوابوں کی دنیا کو میں دیکھتا ھوں
اے خدائے ارضِ وطن کاش تو مہرباں ھو جا
ہر کام آساں ھو جائے گر تو مہرباں ھو جا
تیری عظمتِ ارضی کو سب تسلیم ہیں کرتے
اب خدائے ارضی تو اللہ کی زباں ھو جا
ذلت تو نے پائی ھے ہر ہی کاسہ لیسی میں
اب خدائے لم یزل کا تو ہی بہی خواں ھو جا
ایک بوڑھا خستہ حال اور خستہ مال دیکھا
پیدائش سنتالیس کی چہرے پہ تنا جال دیکھا
کئی مچھر چوس رھے خون اس کا جگہ جگہ
مدھوش میں وہ جھوم رہا خون اس کا لال دیکھا
چُھپا چہرہ جال سے اور زخم زخم جسم ھے
ڈگمگا کر چل رہا ھے یہی اس کا جمال دیکھا
جسم اس کا ٹکڑے ھوا اور خون بھی بہہ گیا
انسان کی انسانیت کا گرتا ھوا زوال دیکھا
عقیدۂ خدا دہریے کا اسے دیکھ متزلزل ھوا
کھا رھے کاٹ رھے پھر بھی زندہ حال دیکھا
عین جوانی بوڑھا لگے یہ کیا ظلم کر دیا
مظلوم ایسا کرنے والے مست ان دھمال دیکھا
محبوب کی آہٹ نے کیا چونک دیا ھے
جان کر کر بلی کی کیا ھونک دیا ھے
آنے کے تصور سے کھل اٹھتا جیون
انکار اس کر کے کیا دھونک دیا ھے
جان کر اور کا غم سُلگ گئے ھم
وقت گزرنے پر اس کیا پھونک دیا ھے
جلا دیا غم جاناں کے تصور نے ھمیں
جاتے جاتے اس کیا جھونک دیا ھے
اپنا ھو یا پرایا کوئی بات نہیں ھاں
مظلوم تو نے آخر کیا بھونک دیا ھے
بات کہنے اور سمجھنے میں بڑا فرق ھے
اسی لیئے زمانہ تو یہاں غرق ھے
اور لیئے۔ اپنے لیئے ہیں مختلف اصول
اوروں کو سناتے جاؤ ایک شرق ھے۔
میں شاعر ھوں مگر شاعری کرتا نہیں ھوں
دیکھتا ھوں ضرور مگر مرتا نہیں ھوں
سہم کر میں خدا کے حضور ھوں جھکتا
اسی لیئے میں سارا کرتا دھرتا نہیں ھوں
انہوں نے مجھے مرتے ہی کیوں چاہا
اس طرح تو صاحب میں مرتا نہیں ھوں
قلم بھی روحِ اعظم ھے کب ٹھہری
اس لیئے میں کوئی قلم گھڑتا نہیں ھوں
مظلوم نے بھی مظلومیت ھے طاری کر لی
کِس طرح جی لو گے کیوں کرتا نہیں ھوں
مری موت کی حقیقت کیا حیات بن گئی ھے
کس طرح جیوں میں حیات خال بن گئی ھے
تلخیِ موت زباں سے مٹتی نہیں جہاں میں
تلخیِ حیات سینے کا یوں داغ بن گئی ھے
یہ کیسا وقت آیا کہ سہل لگے ھے موت
ایسی ہی موت جب سے حیات بن گئی ھے
لبوں پہ ٹھہر گئی ھے مسکراہٹ تلخ کب سے
معلوم نہیں اس سے کیوں ہر بار ٹھن گئی ھے
Next page