Submit your work, meet writers and drop the ads. Become a member
 
جہاں ھے رونق جہاں ھے جاؤ
مثال بن کر جہاں میں چھاؤ
یہ تیری نظرِ کرم کا دھوکا
کہ فانی دنیا میں دل لگاؤ
یہ اک فسانہ ھے زندگی کا
اسے حقیقت نہ تم بناؤ
جو آج سج کر چلا جہاں میں
اسے قبر میں ہی تم لٹاؤ
نہ میری دنیا نہ تیری دنیا
جہاں میں مل کر یہ گیت گاؤ
یہاں کیفیت ھے ایسی مظلوم
خاموش رہ کر بھی جرم پاؤ
یہ عشق میں ھے چھپتا یہ سفلی جذبہ ھے
اس سفلی جذبہ میں پاکی ہی کہاں ھو گی
گر خصی کر دیں ھم یاں سارے مردوں کو
پھر دیکھیں دنیا میں معشوق کہاں ھو گی
حسنِ نظر نے آج بھی مہکا دیا گلاب
الزام ھے یہ آپ کا بہکا دیا شراب
ان کی نظر میں عود کر طوفان آ گیا
طوفان کی تپش نے گہنا دیا سراب
کیوں روتے ھو بابری مسجد پر
جب مندر ہی کی یاد ستانے لگے
جن پر قرض تھا مسجد بنانے کا
وہ مندر لئیے ایمان گنوانے لگے
کبھی مندر کا بنانا کبھی مندر کی بہاریں
اچانک نظر آنے لگیں یہاں بدھا کی غاریں
یاں کونسا ملک ھے اور کونسا ھے مذہب
کیسے یہاں آنے لگیں ہیں زمیں دوز تاریں
ظالم کے ظلم کی تصویر بنا دو
نہ بنے جب کچھ اسے پِیر بنا دو
جس کی غیرت کا نکلا ھو جنازہ
فی الفور اسے شاہ کا وزیر بنا دو
جس قوم کو برباد ھو کرنا ٹھہرا
مکار سیاست کو شمشیر بنا دو
غیرت کے جنازے کو دے کر کندھا
اس قوم کو بس اس کا دلگیر بنا دو
جب اٹھنے کی ھو کوشش ان میں
اس کوشش کو سب کا فقیر بنا دو
جو ظالم کے ظلم کی کرے بغاوت
مظلوم کو نظروں میں شریر بنا دو
بدن تو غلام ہی تھے
ذہن بھی غلام بن گئے
ذہن کی غلامی پہ حیرت
غلاموں کے غلام بن گئے
Next page